
Dua Kumayl with English Subtitles – Ali Fani, Mohsen Farahmand Azad & Sayed Mustafa Al Musawi
دعائے کمیل
قسم: دعا | منسوب بحضور: امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) / حضرت خضر (ع) | مستحب وقت: شبِ جمعہ و 15 شعبان | ماخذ: مصباح المتهجد
دعائے کمیل
قسم: دعا | منسوب بحضور: امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) / حضرت خضر (ع) | مستحب وقت: شبِ جمعہ و 15 شعبان | ماخذ: مصباح المتهجد
امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کا ارشادِ گرامی کمِیل ابن زیاد نخعی سے: "جب تم اس دعا کو حفظ کر لو تو ہر شبِ جمعہ، یا مہینے میں ایک بار، یا سال میں ایک بار، یا اپنی تمام عمر میں کم از کم ایک بار اسے ضرور پڑھو؛ تم دشمنوں کے شر سے محفوظ رہو گے، نصرت و مدد پاؤ گے، رزق میں برکت ہوگی اور مغفرت حاصل ہوگی۔"
Dua Kumayl
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
خدائے رحمان و رحیم کے نام سے
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْألُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيٍْء
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے ذریعے جو ہر شے پر محیط ہے
وَبِقُوَّتِكَ الَّتِي قَهَرْتَ بِهَا كُلَّ شَيٍْء
تیری قوت کے ذریعے جس سے تو نے ہر شے کو زیر نگیں کیا
وَخَضَعَ لَهَا كُلُّ شَيٍْء
اور اس کے سامنے ہر شے جھکی ہوئی
وَذَلَّ لَهَا كُلُّ شَيٍْء
اور ہر شے زیر ہے
وَبِجَبرُوتِكَ الَّتِي غَلَبْتَ بِهَا كُلَّ شَيٍْء
اور تیرے جبروت کے ذریعے جس سے تو ہر شے پر غالب ہے
وَبِعِزَّتِكَ الَّتِي لا يَقُومُ لَهَا شَيْءٌ
تیری عزت کے ذریعے جس کے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں
وَبِعَظَمَتِكَ الَّتِي مَلأَتْ كُلَّ شَيٍْء
تیری عظمت کے ذریعے جس نے ہر چیز کو پر کر دیا
وَبِسُلْطَانِكَ الَّذِي عَلاَ كُلَّ شَيٍْء
تیری سلطنت کے ذریعے جو ہر چیز سے بلند ہے
وَبِوَجْهِكَ الْبَاقِي بَعْدَ فَنَاءِ كُلِّ شَيٍْء
تیری ذات کے واسطے سے جو ہر چیز کے فنا کے بعد باقی رہے گی
وَبِأَسْمَائِكَ الَّتِي مَلأَتْ أَرْكَانَ كُلِّ شَيٍْء
اور سوال کرتا ہوں تیرے ناموں کے ذریعے جنہوں نے ہر چیز کے اجزا کو پر کر رکھا ہے
وَبِعِلْمِكَ الَّذِي أَحَاطَ بِكُلِّ شَيٍْء
تیرے علم کے ذریعے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے
وَبِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَضَاءَ لَهُ كُلُّ شَيٍْء
اور تیری ذات کے نور کے ذریعے جس سے ہر چیز روشن ہوئی ہے
يَا نُورُ يَا قُدُّوسُ
یانور یا قدوس
يَا أَوَّلَ الأَوَّلِينَ
اے اولین میں سب سے اول
وَيَا آخِرَ الآخِرِينَ
اور اے آخرین میں سب سے آخر
اللَّهُمَ اغْفِرْ لِي الذُّنُوبَ الَّتِي تَهتِكُ الْعِصَمَ
اے معبود میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں
اللَّهُمَ اغْفِرْ لِي الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ
خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے
اللَّهُمَ اغْفِرْ لِي الذُّنُوبَ الَّتِي تُغيِّرُ النِّعَمَ
خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ الدُّعَاءَ
اے معبود! میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک لیتے ہیں
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي الذُّنُوبَ الَّتِي تَقْطَعُ الرََّّجَاءَ
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ البَلاءَ
اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہے
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي كُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ وَكُلَّ خَطِيئَةٍ أَخْطَأْتُهَا
اے خدا میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہے اور ہر لغزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہوئی ہے
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِذِكْرِكَ
اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں
وَأَسْتَشْفِعُ بِكَ إِلَي نَفْسِكَ
اور تیری ذات کو تیرے حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں
وَأَسْألُكَ بِجُودِكَ أَن تُدْنِيَنِي مِن قُرْبِكَ
تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپنا قرب عطا فرما
وَأَن تُوزِعَنِي شُكْرَكَ
اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں
وَأَن تُلْهِمَنِي ذِكْرَكَ
اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْألُكَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُّتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ أَن تُسَامِحَنِي وَتَرْحَمَنِي
اے اللہ میں سوال کرتا ہوں جھکے ہوئے، گرے ہوئے، ڈرے ہوئے کی طرح کہ مجھ سے چشم پوشی فرما، مجھ پر رحمت کر
وَتَجْعلَنِي بِقَسَمِكَ رَاضِياً قَانِعاً، وَفِي جَمِيعِ الأَحْوَاِل مُتَوَاضِعاً
اور مجھے اپنی تقدیر پر راضی و قانع کر اور ہر قسم کے حالات میں نرم خو رہنے والا بنا دے
اَللَّهُمَّ وَأَسْألُكَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ
یا اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کی طرح جو سخت تنگی میں ہو
وَأَنزَلَ بِكَ عِنْدَ الشَّدَائِدِ حَاجَتَهُ
سختیوں میں پڑا ہو، اپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیا ہوں
وَعَظُمَ فِيمَا عِنْدَكَ رَغْبَتُهُ
اور جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں
اَللَّهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُكَ وَعَلاَ مَكَانُكَ
اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے
وَخَفِي مَكْرُكَ وَظَهَرَ أَمْرُكَ
تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے
وَغَلَبَ قَهْرُكَ وَجَرَتْ قُدْرَتُكَ
تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے
وَلا يُمْكِنُ الْفِرَارُ مِنْ حُكُومَتِكَ
اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں
اَللَّهُمَّ لا أَجِدُ لِذُنُوبِي غَافِراً
خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ بخشنے والا
وَّلا لِقَبَائِحِي سَاتِراً
اور میری برائیوں کو چھپانے والا
وَّلا لِشَيٍْء مِّنْ عَمَلِي الْقَبِيحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَيْرَكَ
اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو
لا إِلَهَ إِلاَّ أَنتَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں
سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ
تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے
ظَلَمْتُ نَفْسِي
میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا
وَتَجَرَّأْتُ بِجَهْلِي
اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی
وَسَكَنتُ إِلَي قَدِيمِ ذِكْرِكَ لِي وَمَنِّكَ عَلَيَّ
اور میں نے تیری قدیم یاد آوری اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے
اَللَّهُمَّ مَوْلايَ
اے اللہ میرے مولا
كَم مِّن قَبِيحٍ سَتَرْتَهُ
کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی
وَكَم مِّن فَاِدحٍ مِّنَ البَلاءِ أَقَلْتَهُ
اور کتنی ہی سخت بلاؤں سے مجھے بچا لیا
وَكَم مِّنْ عِثَارٍ وَّقَيْتَهُ
کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں
وَكَم مِّن مَّكْرُوهٍ دَفَعْتَهُ
اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں تو نے
وَكَم مِّن ثَنَاٍء جَمِيلٍ لَّسْتُ أَهْلاً لَّهُ نَشَرْتَهُ
میری کتنی ہی تعریفیں عام کیں جن کا میں ہر گز اہل نہ تھا
اَللَّهُمَّ عَظُمَ بَلائِي
اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے
وَأَفْرَطَ بِي سُوءُ حَاِلي
بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے
وَقَصُرَتْ بِي أَعْمَاِلي
میرے اعمال بہت کم ہیں
وَقَعَدَتْ بِي أَغْلاَلِي
گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے
وَحَبَسَنِي عَن نَّفْعِي بُعْدُ آمَاِلي
لمبی آرزوؤں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے
وَخَدَعَتْنِي الدُّنْيَا بِغُرُورِهَا وَنَفْسِي بِجِنَايَتِهَا وَمِطَاِلي
دنیا نے دھوکہ بازی سے مجھ کو فریب دیا ہے اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے
يَا سَيِّدِي فَأَسْألُكَ بِعِزَّتِكَ أَن لا يَحْجُبَ عَنْكَ دُعَائِي سُوءُ عَمَلِي وَفِعَاِلي
اے میرے آقا میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے
وَلا تَفْضَحَنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَيْهِ مِنْ سِرِّي
اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو جانتا ہے
وَلا تُعَاجِلْنِي بِالْعُقُوبَةِ عَلَى مَا عَمِلْتُهُ فِي خَلَوَاتِي
اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں
مِنْ سُوءِ فِعْلِي وَإِسَاءَتِي،
غلط کام کیا، برائی کی
وَدَوَامِ تَفْرِيطِي وَجَهَالَتِي
ہمیشہ کوتاہی کی، اس میں میری نادانی،
وَكَثْرَةِ شَهَوَاتِي وَغَفْلَتِي
خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے
وَكُنِ اَللَّهُمَّ بِعِزَّتِكَ لِي فِي كُلِّ الأَحْوَاِل رَؤُوفاً
اور اے میرے اللہ تجھے اپنی عزت کا واسطہ میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ
وَّعَلَيَّ فِي جَمِيعِ الأُمُورِ عَطُوفاً
اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما
إِلَهِي وَرَبِّي مَن لِّي غَيْرُكَ أَسْألُهُ كَشْفَ ضُرِّي وَالْنَّظَرَ فِي أَمْرِي!
میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ
إِلَهِي وَمَوْلاي أَجْرَيْتَ عَلَيَّ حُكْماً اتَّبَعْتُ فِيهِ هَوَى نَفْسِي،
میرے معبود اور میرے مولا تو نے میرے لیے حکم صادر فرمایا لیکن میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا
وَلَمْ أَحْتَرِسْ فِيهِ مِن تَزْيينِ عَدُوِّي،
اور میں دشمن کی فریب کاری سے بچ نہ سکا
فَغَرَّنِي بِمَا أَهْوَى وَأَسْعَدَهُ عَلَى ذَلِكَ القَضَاءُ
اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ دیا اور وقت نے اس کا ساتھ دیا
فَتَجَاوَزْتُ بِمَا جَرَى عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ بَعْضَ حُدُودِكَ
پس تو نے جو حکم صادر کیا میں نے اس میں تیری بعض حدود کو توڑا
وَخَالَفْتُ بَعْضَ أَوَامِرِكَ
اور تیرے بعض احکام کی مخالفت کی
فَلَكَ الْحُجَّةُ عَلَيَّ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ
پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ہے تیری حمد بجا لانا
وَلا حُجَّةَ لِي فِيمَا جَرَي عَلَيَّ فِيهِ قَضَاؤُكَ،
اور میرے پاس کوئی حجت نہیں اس میں جو فیصلہ تو نے میرے لیے کیا ہے
وَأَلْزَمَنِي حُكْمُكَ وَبَلاؤُكَ
اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہے
وَقَدْ أَتَيْتُكَ يَا إِلَهِي بَعْدَ تَقْصِيرِي وَإِسْرَافِي عَلَى نَفْسِي
اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پر زیادتی کی ہے
مُعْتَذِراً نَّادِماً،
میں عذر خواہ و پشیماں
مُّنْكَسِراً مُّسْتَقِيلاً
ہارا ہوا، معافی کا طالب،
مُّسْتَغْفِراً مُّنِيباً،
بخشش کا سوالی، تائب،
مُّقِرّاً مُّذْعِناً مُّعْتَرِفاً
گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں
لا أَجِدُ مَفَرّاً مِّمَّا كَانَ مِنِّي
جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے
وَلا مَفْزَعاً أَتَوَجَّهُ إِلَيْهِ في أَمْرِي
نہ کوئی جائے پناہ کہ اپنے معاملے میں اس کی طرف توجہ کروں
غَيْرَ قَبُولِكَ عُذْرِي، وَإِدخَاِلكَ إِيَاي فِي سَعَةٍ مِّن رَّحْمَتِكَ
سوائے اس کے کہ تو میرا عذر قبول کرے اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کر لے
اَللَّهُمَّ فَاقْبَل عُذْرِي
اے معبود! بس میرا عذر قبول فرما
وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي
میری سخت تکلیف پر رحم کر
وَفُكَّنِي مِن شَدِّ وَثَاقِي
اور بھاری مشکل سے رہائی دے
يَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي وَرِقَّةَ جِلْدِي وَدِقَّةَ عَظْمِي
اے پروردگار رحم فرما میرے کمزور بدن پر اور نازک جلد اور باریک ہڈیوں پر رحم فرما
يَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِي وَذِكْرِي وَتَرْبِيَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِيَتِي
اے وہ ذات جس نے میری خلقت، ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا
هَبْنِي لابْتِدَاءِ كَرَمِكَ وَسَاِلفِ بِرِّكَ بِي
اپنے پہلے کرم اور گزشتہ نیکی کے تحت مجھے معاف فرما
يَا إِلَهِي وَسَيِّدِي وَرَبِّي
اے میرے معبود میرے آقا اور میرے رب
أَتُرَاكَ مُعَذِّبِي بِنَارِكَ بَعْدَ تَوْحِيدِكَ
کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں
وَبَعْدَ مَا انْطَوَى عَلَيْهِ قَلْبِي مِن مَّعْرِفَتِكَ
اس کے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے
وَلَهِجَ بِهِ لِسَانِي مِنْ ذِكْرِكَ
اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہے
وَاعْتَقَدَهُ ضَمِيرِي مِنْ حُبِّكَ
میرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے
وَبَعْدَ صِدْقِ اعْتِرَافِي وَدُعَائِي خَاضِعاً لِّرُبُوبِيَّتِكَ
اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا؟
هَيْهَاتَ أَنتَ أَكْرَمُ مِنْ أَن تُضَيِّعَ مَن رَّبَّيْتَهُ
ہرگز نہیں! تو بلند ہے اس سے کہ جسے پالا ہو اسے ضائع کرے
أَوْ تُبْعِدَ مَنْ أَدْنَيْتَهُ
یا جسے قریب کیا ہو اسے دور کرے
أَوْ تُشَرِّدَ مَنْ آوَيْتَهُ
یا جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے
أَوْ تُسْلِّمَ إِلىَ الْبلاءِ مَن كَفَيْتَهُ وَرَحِمْتَهُ
یا جس کی سرپرستی کی ہو اور اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے
وَلَيْتَ شِعْرِي يَا سَيِّدِي وَإِلَهِي وَمَوْلاي
اے کاش میں جانتا اے میرے آقا، میرے معبود اور میرے مولا
أَتُسَلِّطُ النَّارَ عَلَى وُجُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِكَ سَاجِدَةً
کہ کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے ہیں
وَّعَلَى أَلْسُنٍ نَّطَقَتْ بِتَوْحِيدِكَ صَادِقَةً وَّبِشُكْرِكَ مَادِحَةً
اور ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں
وَّعَلَى قُلُوبٍ اعْتَرَفَتْ بِإِلَهِيَّتِكَ مُحَقِّقَةً
اور ان دلوں کو جو تحقیق کے ساتھ تجھے معبود مانتے ہیں
وَّعَلَى ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِكَ حَتَّى صَارَتْ خَاشِعَةً
اور ان کے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پر ہو کر تجھ سے خائف ہیں تو انہیں آگ میں ڈالے گا؟
وَّعَلَى جَواِرحَ سَعَتْ إِلَى أَوْطَانِ تَعَبُّدِكَ طَائِعَةً وَّأَشَارَتْ بِاسْتِغْفَارِكَ مُذْعِنَةً
اور ان اعضاء کو جو فرمانبرداری سے تیری عبادت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں اور یقین کے ساتھ تیری مغفرت کے طالب ہیں
مَّا هَكَذَا الظَّنُّ بِكَ وَلا أُخْبِرْنَا بِفَضْلِكَ عَنكَ
تیری ذات سے ایسا گمان نہیں نہ یہ تیرے فضل کے مناسب ہے
يَا كَرِيمُ، يَا رَبِّ
اے کریم! اے پروردگار!
وَأَنتَ تَعْلَمُ ضَعْفِي عَن قَلِيلٍ مِّن بَلاءِ الدُّنْيَا وَعُقُوبَاتِهَا،
اے پروردگار! تو میری ناتوانی کو جانتا ہے دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل
وَمَا يَجْرِي فِيهَا مِنَ الْمَكَارِهِ عَلَى أَهْلِهَا
اور اہل دنیا پر جو تنگیاں آتی ہیں ﴿میں انہیں برداشت نہیں کر سکتا﴾
عَلَى أَنَّ ذَلِكَ بَلاءٌ وَّمَكْرُوهٌ، قَلِيلٌ مَّكْثُهُ، يَسِيرٌ بَقَاؤُهُ، قَصِيرٌ مُّدَّتُهُ
اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ کم ہے اور بقاء کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے
فَكَيْفَ احْتِمَاِلي لِبَلاءِ الآخِرَةِ وَجَلِيلِ وُقُوعِ الْمَكَارِهِ فِيهَا!
تو پھر کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا جو بڑی سخت ہیں
وَهُوَ بَلاءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ، وَيَدُومُ مَقَامُهُ، وَلا يُخَفَّفُ عَنْ أَهْلِهِ
اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جنکی مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی
لأَنَّهُ لا يَكُونُ إِلاَّ عَنْ غَضَبِكَ وَانتِقَامِكَ وَسَخَطِكَ
اس لیے کہ وہ تیرے غضب، تیرے انتقام اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں
وَهَذَا مَا لا تَقُومُ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ
اور یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے
يَا سَيِّدِي فَكَيْفَ بِي
تو اے آقا مجھ پر کیا گزرے گی
وَأَنَا عَبْدُكَ الضَّعِيفُ الذَّلِيلُ الْحَقِيرُ الْمِسْكِينُ الْمُسْتَكِينُ
جبکہ میں تیرا کمزور، پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندہ ہوں
يَا إِلَهِي وَرَبِّي وَسَيِّدِي وَمَوْلاي
اے میرے معبود، میرے رب، میرے آقا اور میرے مولا!
لأَيِّ الأُمُورِ إِلَيْكَ أَشْكُو
میں کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں
وَلِمَا مِنْهَا أَضِجُّ وَأَبْكِي
اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں؟
لأَلِيمِ الْعَذَابِ وَشِدَّتِهِ!
دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے
أَمْ لِطُولِ الْبَلاءِ وَمُدَّتِهِ!
یا طولانی مصیبت اور اس کی مدت کی زیادتی کیلئے
فَلَئِن صَيَّرْتَنِي لِلْعُقُوبَاتِ مَعَ أَعْدَائِكَ
پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھا
وَجَمَعْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِ بَلائِكَ
اور مجھے اور اپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا
وَفَرَّقْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحِبَّائِكَ وَأَوْلِيَائِكَ
اور میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی
فَهَبْنِي يَا إِلَهِي وَسَيِّدِي وَمَوْلاي وَرَبِّي صَبَرْتُ عَلَى عَذَابِكَ،
تو اے میرے معبود، میرے آقا میرے مولا اور میرے رب، تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں
فَكَيْفَ أَصْبِرُ عَلَى فِرَاقِكَ
تو تجھ سے دوری پر کیسے صبر کروں گا؟
وَهَبْنِي صَبَرْتُ عَلَى حَرِّ نَارِكَ،
اور مجھے بتا کہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا
فَكَيْفَ أَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ إِلَى كَرَامَتِكَ
تو تیرے کرم سے کس طرح چشم پوشی کر سکوں گا
أَمْ كَيْفَ أَسْكُنُ فِي النَّارِ وَرَجَائِي عَفْوُكَ
یا کیسے آگ میں پڑا رہوں گا جب کہ میں تیرے عفو و بخشش کا امیدوار ہوں
فَبِعِزَّتِكَ يَا سَيِّدِي وَمَوْلاي أُقْسِمُ صَادِقاً، لَئِن تَرَكْتَنِي نَاطِقاً
پس قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا سچی قسم کہ اگر تو نے میری گویائی باقی رہنے دی
لأَضِجَّنَّ إِلَيْكَ بَيْنَ أَهْلِهَا ضَجِيجَ الآمِلِينَ
تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح
وَلأَصْرُخَنَّ إِلَيكَ صُرَاخَ المُسْتَصْرِخِينَ
اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے مددگار کے متلاشی کرتے ہیں
وَلأَبْكِيَنَّ عَلَيْكَ بُكَاءَ الفَاقِدِينَ
تیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیں
وَلأُنَادِيَنَّكَ أَيْنَ كُنتَ يَا وَلِيَّ الْمُؤْمِنِينَ
اور تجھے پکاروں گا کہاں ہے تو اے مومنوں کے مددگار
يَا غَايَةَ آمَاِل العَارِفِينَ
اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز
يَا غِيَاثَ المُسْتَغِيثِينَ
اے بے چاروں کی داد رسی کرنے والے
يَا حَبِيبَ قُلُوبِ الصَّادِقِينَ
اے سچے لوگوں کے دوست
وَيَا إِلَهَ العَالَمِينَ
اور اے عالمین کے معبود
أَفَتُرَاكَ، سُبْحَانَكَ يَا إِلَهِي وَبِحَمْدِكَ، تَسْمَعُ فِيهَا صَوْتَ عَبْدٍ مُّسْلِمٍ
کیا میں تجھے دیکھتا [نہیں] ہوں [کہ] تو پاک ہے اس سے اے میرے اللہ اپنی حمد کے ساتھ کہ تو وہاں سے بندۂ مسلم کی آواز سن رہا ہے
سُجِنَ فِيهَا بِمُخَالَفَتِهِ
جو بوجۂ نافرمانی دوزخ میں ہے
وَذَاقَ طَعْمَ عَذَابِهَا بِمَعْصِيَتِهِ
اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے
وَحُبِسَ بَيْنَ أَطْبَاقِهَا بِجُرْمِهِ وَجَرِيرَتِهِ
اور اپنے جرم گناہ پر جہنم کے طبقوں کے بیچوں بیچ بند ہے
وَهُوَ يَضِجُّ إلَيْكَ ضَجِيجَ مُؤَمِّلٍ لِّرَحْمَتِكَ
وہ تیرے سامنے گریہ کر رہا ہے تیری رحمت کے امیدوار کی طرح
وَيُنَادِيكَ بِلِسَانِ أَهْلِ تَوْحِيدِكَ
اور اہل توحید کی زبان میں تجھے پکار رہا ہے
وَيَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بِرُبُوبِيَّتِكَ
اور تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے
يَا مَوْلاي فَكَيْفَ يَبقَى فِي الْعَذَابِ وَهُوَ يَرْجُو مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِكَ
اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا جب کہ وہ تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے
أَمْ كَيْفَ تُؤْلِمُهُ النَّارُ وَهُوَ يَامَلُ فَضْلَكَ وَرَحْمَتَكَ
یا پھر آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہے
أَمْ كَيْفَ يُحْرِقُهُ لَهِيبُهَا وَأَنتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَرَى مَكَانَهُ
یا آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اس کی آواز سن رہا ہے اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے
أَمْ كَيْفَ يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ زَفِيرُهَا وَأَنتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ
یا کیسے آگ کے شرارے اسے گھیریں گے جبکہ تو اس کی ناتوانی کو جانتا ہے
أَمْ كَيْفَ يَتَقَلْقَلُ بَيْنَ أَطْبَاقِهَا وَأَنتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ
یا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے
أَمْ كَيْفَ تَزْجُرُهُ زَبَانِيَتُهَا وَهُوَ يُنَادِيكَ يَا رَبَّهُ
یا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے اے میرے رب
أَمْ كَيْفَ يَرْجُو فَضْلَكَ فِي عِتْقِهِ مِنْهَا فَتَتْرُكُهُ فِيهَا
یا کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے
هَيهَاتَ مَا ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ
ہرگز نہیں! تیرے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا
وَلا الْمَعْرُوفُ مِن فَضْلِكَ
نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے
وَلا مُشْبِهٌ لِمَا عَامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدِينَ مِنْ بِرِّكَ وَإِحْسَانِكَ
نہ یہ توحید پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے
فَبِالْيَقِينِ أَقْطَعُ لَوْلا مَا حَكَمْتَ بِهِ مِن تَعْذِيبِ جَاحِدِيكَ
پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم نہ دیا ہوتا
وَقَضَيْتَ بِهِ مِنْ إِخْلاَدِ مُعَانِدِيكَ
اور اپنے مخالفوں کو ہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا
لَجَعَلْتَ النَّارَ كُلَّهَا بَرْداً وَّسَلاَماً،
تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا
وَمَا كَانَ لأَحَدٍ فِيهَا مَقَرّاً وَّلا مُقَاماً
اور کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا
لَّكِنَّكَ تَقَدَّسَتْ أَسْمَاؤُكَ أَقْسَمْتَ أَنْ تَمْلأَهَا مِنَ الْكَافِرِينَ،
لیکن تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا
مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
جنّوں اور انسانوں میں سے
وَأَن تُخَلِّدَ فِيهَا الْمُعَانِدِينَ
اور یہ مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے
وَأَنتَ جَلَّ ثَنَاؤُكَ قُلْتَ مُبْتَدَئاً، وَّتَطَوَّلْتَ بِالإِنْعَامِ مُتَكَرِّماً:
اور تو بڑی تعریف والا ہے تو نے بلا سابقہ یہ فرمایا فضل و کرم کرتے ہوئے (یہ ارشاد فرمایا) کہ
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ
کیا وہ شخص جو مومن ہے وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟ یہ دونوں برابر نہیں
إِلَهِي وَسَيِّدِي فَأَسْألُكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِي قَدَّرْتَهَا
میرے معبود، میرے آقا! میں سوال کرتا ہوں تیری قدرت کے واسطے سے جسے تو نے توانا کیا
وَبِالْقَضِيَّةِ الَّتِي حَتَمْتَهَا وَحَكَمْتَهَا وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَيْهِ أَجْرَيْتَهَا
اور تیرے فرمان (کے واسطے سے) جسے تو نے یقینی و محکم بنایا اور تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے
أَن تَهَبَ لِي، فِي هذِهِ اللَّيْلَةِ، وَفِي هَذِهِ السَّاعَةِ
(سوال کرتا ہوں) بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں
كُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ
میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے
وَكُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ
تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے
وَكُلَّ قَبِيحٍ أَسْرَرْتُهُ
وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں
وَكُلَّ جَهْلٍ عَمِلْتُهُ،
جو نادانیاں میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں
كَتَمْتُهُ أَوْ أَعْلَنتُهُ،
علی الاعلان یا پوشیدہ رکھی ہوں
أَخفَيْتُهُ أَوْ أَظْهَرْتُهُ
یا ظاہر کیں ہیں
وَكُلَّ سَيِّئَةٍ أَمَرْتَ بِإِثْبَاتِهَا الْكِرَامَ الكَاتِبِينَ
اور (معاف فرما) میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین کو حکم دیا ہے
الَّذِينَ وَكَّلْتَهُم بِحِفْظِ مَا يَكُونُ مِنِّي
جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں
وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداً عَلَيَّ مَعَ جَوَارِحِي،
اور ان کو میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا
وَكُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيَّ مِن وَّرَائِهِمْ،
اور ان کے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر ہے
وَالشَّاهِدَ لِمَا خَفِي عَنْهُمْ،
اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے
وَبِرَحْمَتِكَ أَخْفَيْتَهُ،
حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا
وَبفَضْلِكَ سَتَرْتَهُ
اور اپنے فضل سے اس پر پردہ ڈالا
وَأَن تُوَفِّرَ حَظِّي مِن كُلِّ خَيْرٍ تُنْزِلُهُ،
اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا
أَوْ إِحْسَانٍ تُفْضِلُهُ
یا ہر اس احسان میں جو تو نے کیا
أَوْ بِرٍّ تَنْشِرُهُ،
یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا
أَوْ رِزْقٍ تَبْسُطُهُ
یا (اس) رزق میں جسے تو نے وسیع کیا
أَوْ ذَنْبٍ تَغْفِرُهُ
یا گناہ میں جسے تو معاف نے کیا
أَوْ خَطَأٍ تَسْتُرُهُ
یا غلطی میں جسے تو نے چھپایا
يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ
یارب یا رب یا رب
يَا إِلَهِي وَسَيِّدِي وَمَوْلاي وَمَاِلكَ رِقِّي
اے میرے معبود، میرے آقا، میرے مولا اور میری جان کے مالک
يَا مَنْ بِيَدِهِ نَاصِيَتِي
اے وہ جس کے ہاتھ میں میری لگام ہے
يَا عَلِيماً بِضُرِّي وَمَسْكَنَتِي
اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف
يَا خَبِيراً بِفَقْرِي وَفَاقَتِي
اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر
يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ
یارب یا رب یا رب
أَسْألُكَ بِحَقِّكَ وَقُدْسِكَ
میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری پاکیزگی،
وَأَعْظَمِ صِفَاتِكَ وَأَسْمَائِكَ
تیری عظیم صفات اور اسماء کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں
أن تَجْعَلَ أَوْقَاتِي فِي اللَّيلِ وَالنَّهَارِ بِذِكْرِكَ مَعْمُورَةً،
کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر
وَبِخِدْمَتِكَ مَوْصُولَةً،
اور مسلسل اپنی حضوری میں رکھ
وَّأَعْمَاِلي عِنْدَكَ مَقْبُولَةً،
اور میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما
حَتَّى تَكُونَ أَعْمَاِلي وَأَوْرَادِي كُلُّهَا وِرْداً وَّاحِداً،
حتیٰ کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور ورد قرار پائیں
وَّحَاِلي فِي خِدْمَتِكَ سَرْمَداً
اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے
يَا سَيِّدِي، يَا مَنْ عَلَيْهِ مُعَوَّلِي
اے میرے آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے
يَا مَنْ إلَيْهِ شَكَوْتُ أَحْوَاِلي
اے جس سے میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتا ہوں
يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ
یارب یا رب یا رب
قَوِّ عَلَى خِدْمَتِكَ جَوَارِحِي
میرے ظاہری اعضاء کو اپنی حضوری میں قوی
وَاشْدُدْ عَلىَ الْعَزِيمَةِ جَوَانِحِي
اور میرے باطنی ارادوں کو محکم و مضبوط بنا دے
وَهَبْ لِي الْجِدَّ فِي خَشْيَتِكَ
اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں
وَالدَّوَامَ فِي الإتِّصَاِل بِخِدْمَتِكَ
اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں
حَتَّى أَسْرَحَ إِلَيكَ فِي مَيَادِينِ السَّابِقِينَ
تاکہ تیری بارگاہ میں سابقین کی راہوں پر چل پڑوں
وَأُسْرِعَ إلَيْكَ فِي الْمبُادِرِينَ
اور تیری طرف جانے والوں سے آگے نکل جاؤں
وَأَشْتَاقَ إلىَ قُرْبِكَ فِي الْمُشْتَاقِينَ
تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں میں زیادہ شوق والا بن جاؤں
وَأَدْنُوَ مِنْكَ دُنُوَّ الْمُخْلِصِينَ
تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جاؤں
وَأَخَافَكَ مَخَافَةَ الْمُوقِنِينَ
اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں
وَأَجْتَمِعَ فِي جِوَارِكَ مَعَ الْمُؤْمنِينَ
اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں
اَللَّهُمَّ وَمَنْ أَرَادَنِي بِسُوٍء فَأَرِدْهُ
اے معبود! جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اس کے لئے ایسا ہی کر
وَمَن كَادَنِي فَكِدْهُ
جو میرے ساتھ مکر کرے تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کر
وَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَسَنِ عَبِيدِكَ نَصِيباً عِنْدَكَ
مجھے اپنے بندوں میں قرار دے جو نصیب میں بہتر ہیں
وَأَقْرَبِهِم مَّنْزِلَةً مِّنْكَ
جو منزلت میں تیرے قریب ہیں
وَأَخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَّديْكَ
جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں
فَإِنَّهُ لا يُنَالُ ذَلِكَ إِلاَّ بِفَضْلِكَ
کیونکہ تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے
وَجُدْ لِي بِجُودِكَ
بواسطہ اپنے کرم کے مجھ پر کرم کر
وَاعْطِفْ عَلَيَّ بِمَجْدِكَ
بذریعہ اپنی بزرگی کے مجھ پر توجہ فرما
وَاحْفَظْنِي بِرَحْمَتِكَ
بوجہ اپنی رحمت کے میری حفاظت کر
وَاجْعَل لِّسَانِي بِذِكْرِكَ لَهِجاً
میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما
وَّقَلْبِي بِحُبِّكَ مُتَيَّماً
اور میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دے
وَّمُنَّ عَلَيَّ بِحُسْنِ إِجَابَتِكَ
میری دعا بخوبی قبول فرما کر مجھ پر احسان فرما
وَأَقِلْنِي عَثْرَتِي
میرا گناہ معاف کر دے
وَاغْفِرْ زَلَّتِي
اور میری خطا بخش دے
فَإِنَّكَ قَضَيْتَ عَلَى عِبَادِكَ بِعِبَادَتِكَ
کیونکہ تو نے بندوں پرعبادت فرض کی ہے
وَأَمَرْتَهُم بِدُعَائِكَ
اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا
وَضَمِنتَ لَهُمُ الإِجَابَةَ
اور قبولیت کی ضمانت دی
فَإِلَيْكَ يَا رَبِّ نَصَبْتُ وَجْهِي
پس اے پروردگار میں اپنا رخ تیری طرف کر رہا ہوں
وَإلَيْكَ يَا رَبِّ مَدَدتُّ يَدِي
اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہوں
فَبِعِزَّتِكَ اسْتَجِبْ لِي دُعَائِي
تو اپنی عزت کے طفیل میری دعا قبول فرما
وَبَلِّغْنِي مُنَاي
میری تمنائیں بر لا
وَلا تَقْطَعْ مِن فَضْلِكَ رَجَائِي
اور اپنے فضل سے لگی میری امید نہ توڑ
وَاكْفِنِي شَرَّ الْجِنِّ وَالإِنْسِ مِنْ أَعْدَائِي
میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر
يَا سَرِيعَ الرِّضَا
اے جلد راضی ہونے والے
اغْفِرْ لِمَن لا يَمْلِكُ إِلاَّ الدُّعَاءَ
مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں رکھتا
فَإِنَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا تَشَاءُ
بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے
يَا مَنْ اسْمُهُ دَوَاءٌ
اے وہ جس کا نام دوا،
وَذِكْرُهُ شِفَاءٌ
جس کا ذکر شفا
وَطَاعَتُهُ غِنًى
اور اطاعت تونگری ہے
ارْحَم مَّن رَّأْسُ مَاِلهِ الرَّجَاءُ
رحم فرما اس پر جس کا سرمایہ محض امید ہے
وَسِلاَحُهُ الْبُكَاءُ
اور جس کا ہتھیار گریہ ہے
يَا سَاِبغَ النِّعَمِ
اے نعمتیں پوری کرنے والے
يَا دَافِعَ النِّقَمِ
اے سختیاں دور کرنے والے
يَا نُورَ الْمُسْتَوْحِشِينَ فِي الظُّلَمِ
اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور
يَا عَالِماً لا يُعَلَّمُ
اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ
محمدؐ وآل محمدؑ پر رحمت فرما
وافْعَلْ بِي مَا أَنتَ أَهْلُهُ
مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے
وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَالأَئِمَّةِ الْمَيَامِينَ مِنْ آلِهِ
خدا اپنے رسولؐ پر سلام بھیجتا ہے اور بابرکت آئمہ پر، جو ان کی آلؑ میں سے ہیں
وَسَلَّمَ تَسْلِيماً كَثِيراً
بہت زیادہ سلام و تحیات۔